ٹول بار پر جائیں
Uncategorized

حالات حاضرہ کے تناظر میں ایک غزل

ہمیں آج میداں میں آنا پڑے گا
اب ایمانی طاقت دکھانا پڑے گا

جو بھٹکے ہوئے اپنے رستے سے راہی
اُنہیں سیدھا رستہ دکھانا پڑے گا

شب و روز اللہ کو ہی ياد کر کے
کورونا جہاں سے بھگانا پڑے گا

جہاں رہتے ہیں سب محبت کے مارے
وہاں جا کے گھر اب بسانا پڑے گا

ستائے گئے ہیں زمانے سے جو بھی
اب انصاف ان کو دلانا پڑے گا

نہیں چاہئے مجھکو تصویر ایسی
جسے دیکھ کر غم اٹھانا پڑے گا

زمانے میں کچھ بھی نہیں دائمی ہے
یہاں سے تو سب کو ہی جانا پڑے گا

جو ہو جائیں ہم سب اگر ایک ملت
سبھوں کو یہاں سر جھکانا پڑے گا

جو عہدے پہ فائز ہیں مغرور انکو
عمر کی عدالت دکھانا پڑے گا

کہے نا کوئی آج ہم سب کو بزدل
صحابہ سی جرأت دکھانا پڑے گا

یہاں نفرتوں کے جو چھائے ہیں بادل
اُنہیں الفتوں سے مٹانا پڑے گا

ذرا سی عبادت میں جنت کہاں ہے
ضیاء رب کو راضی کرانا پڑے گا

زقلم: ضیاء ہاشمی ابن ہاشم

 

Tags
حالات حاضرہ کے تناظر میں ایک غزل علامہ اقبال کورونا کورونا نظم
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button