ٹول بار پر جائیں
Uncategorized

"کیش بیک کا شرعی حکم

"کیش بیک کا شرعی حکم”

ازقلم: حسان بن عبد الغفار

آج کے اس جدید دور میں آن لائن (online) لین دین اپنے پورے شباب پر ہے جس کی ایک معروف صورت منی ٹرانسفر (money transfer) ہے جس کے لئے فون پے( phone pe) پیٹیم ( paytm) جیسے کئی ایک ایپس (Apps) بہت زیادہ مستعمل ہیں ۔
چونکہ اس میں صارفین کو کچھ کیش بیک(cashback) مل جاتا ہے جس کی وجہ بہت سارے لوگ بلا ضرورت محض چند ٹکوں کے لئے منی ٹرانسفر کرتے رہتے ہیں اور اس بات کی قطعا پرواہ نہیں کرتے کہ انھیں ملنے والا کیش بیک حلال بھی ہے یا نہیں ۔
چونکہ مسئلہ نہایت اہم ہے گرچہ لوگ اسے قابل اعتناء نہ سمجھیں ۔کیونکہ بروز قیامت ہم سے بہت سارے سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی ہوگا کہ مال کہاں سے حاصل کیا ہے اور کہاں پر خرچ کیا ہے "”لا تَزُولُ قَدَمَا الْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ :کہ بروز قیامت ابن آدم کے قدم اس وقت تک نہیں ہل سکتے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے۔۔۔۔۔۔۔ان میں سے ایک "عَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ”” (ترمذي: 2416) مال کے بارے میں ہوگا کہ تو نے اسے کہاں سے حاصل کیا اور کہاں پر خرچ کیا۔

چنانچہ جب ہم اس مسئلے کو شرعی تناظر میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ منی ٹرانسفر کے زرئعے سے ملنے والا کیش بیک ( cashback) واضح طور پر سود ہے ۔
مثال کے طور پر ایک شخص اپنے فون پے(phone pe) یا پیٹیم (paytm) وغیرہ سے کسی دوسرے کے اکاؤنٹ( account) میں 10000 روپئے ٹرانسفر کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کے خود کے اکاؤنٹ سے 10000 روپیہ کٹتا ہے تو یہ درست اور جائز ہے لیکن اگر اس کے علاوہ پچاس، سو، یا اس سے کم و بیش کیش بیگ بھی ملتا ہے تو یہ عین سود ہے جو کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے ۔
اور اس شناعت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب آدمی منی ٹرانسفر بلا ضرورت صرف کیش بیک کے لئے کرے کیونکہ سودی بینکنگ سسٹم کا استعمال مجبوری اور حالت اضطرار ہی میں جائز ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیش بیک کس بنا پر سود ہے اور اس کی کیا دلیل ہے ۔

تو اس کیش بیک کے سود ہونے کی دلیل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واضح فرمان ہے : "الذَّهَبُ بالذَّهَبِ. والفِضَّةُ بالفِضَّةِ. والبُرُّ بالْبُرِّ. والشَّعيرُ بالشَّعيرِ. والتَّمرُ بالتَّمرِ. والمِلحُ بالمِلحِ. مِثلًا بمِثلٍ. يَدًا بيَدٍ. فمَن زادَ أوِ استَزادَ فقد أربَى. الآخِذُ والمُعطي فيهِ سَوَاءٌ.وفي رواية : الذَّهَبُ بالذَّهَبِ مِثلًا بمِثلٍ. فذَكَرَ بمِثلِهِ. .
(صحيح مسلم -الرقم: 1584 )

” سونے کا لین دین سونے سے، چاندی کا لین دین چاندی سے ،گیہوں کا لین دین گیہوں سے جو کا لین دین جو سے، ،کھجور کا لین دین کھجور سے برابر اور نقد ہونا چاہئے لھذا جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا تو وہ سود ہے اور لینے و دینے والے دونوں برابر ہیں ".

چونکہ روپیہ سونے اور چاندی کے حکم میں ہے لھذا جس قدر روپیہ کیش بیک کی صورت میں ملے جان لو کہ وہ عین سود ہے جس سے بچنا نہایت ضروری ہے ۔

ہاں اگر وہی کیش بیک سامان لینے کی صورت میں یا ٹکٹ وغیرہ لینے کی صورت میں مل رہا ہے تو وہ جائز اور درست ہے ۔کیونکہ یہاں جنس بدل جاتا ہے اور جب جنس بدل جائے تفاضل اور کمی و زیادتی جائز اور درست ہے ۔جیسا کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: "فإذَا اخْتَلَفَت هذهِ الأصْنَافُ ، فبيعوا كيفَ شئْتُمْ ، إذَا كانَ يدًا بِيَدٍ”. (مسلم – الرقم: 1587 )
کہ جب جنس بدل جائے ( یعنی سونے کی لین چاندی سے ہو
یا چاندی کا لین دین سونے سے ہو) تو جیسے چاہو کمی و زیادتی کر کے لین دین کرو جب کہ نقدا ہو”.

"ضابطہ”

(1) اگر پیسے کا لین دین اور بیع پیسے سے کرنا ہے تو دو شرط کا پایا جانا ضروری ہے
(1) برابر ہو : اگر ایک روپیہ بھی کم یا زیادہ ہوا تو اس کا شمار سود میں ہوگا۔ خواہ وہ کیش بیک کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں.
(2)”نقد یعنی ہاتھوں ہاتھ ہو” لھذا اگر کسی ایک طرف سے ادھار ہوا تو اس بیع کا شمار سودی لین دین اور بیع میں ہوگا۔
"نوٹ” قرض کا مسئلہ اس ضابطے میں میں داخل نہیں ہے ۔کیونکہ قرض بیع نہیں ہے ۔

(2)اگر سونے کی بیع اور خرید و فروخت چاندی سے ہو تو تو صرف ایک شرط ہے کہ وہ نقد ہو ادھار نہ ہو۔

(3) گیہوں کی بیع اور خرید وفروخت گیہوں سے ہو تو دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے
-1- برابر ہو”
-2- نقد ہو”

(4) گیہوں کی خرید و فروخت کھجور، جو، یا نمک سے ہو تو ایک شرط ضروری ہے کہ وہ نقد ہو ادھار نہ ہو۔

(5) اگر گیہوں ،کھجور،نمک، جو یا دیگر چیزوں کی خرید و فروخت پیسے کے ذریعے سے ہو تو کوئی شرط نہیں ہے جس طرح چاہو کمی زیادتی کر کے کر سکتے ہو۔

مزید وضاحت کے لئے ہم یہ جان لیتے ہیں کہ :
سونے، چاندی اور روپیہ میں علت "قیمت” ہے

اور گیہوں، جو، کھجور نمک وغیرہ میں علت "قوت یعنی طعم و خوراک ” ہے

لھذا اگر جنس اور علت دونوں ایک ہوں جیسے روپیہ سے روپیہ یا سونے سے سونا تو دو شرط ضروری ہے
(1)برابر ہونا
(2)نقد ہونا

اگر علت ایک ہے مگر جنس الگ الگ ہے جیسے سونے سے چاندی تو ایک شرط ضروری ہے کہ وہ نقد ہو ادھار نہ ہو ۔

اور اگر جنس اور علت دونوں مختلف ہوں جیسے روپیہ سے گیہوں یا دیگر اشیاء تو ایک بھی شرط نہیں ہے ۔

ایک اشکال

کیا موبائل ریچارج میں بھی سود ہے کیونکہ اس میں بھی 50 کے ریچارج پر 45 یا اس سے کم و بیش آتا ہے؟؟

ریچارج میں نہ تو سود ہے اور نہ ہی ریچارج پر ملنے والا کیش بیک سود ہے
اس لئے کہ ریچارج روپیہ نہیں ہے کہ وہ بھی برابر اور نقد ہو بلکہ وہ سامان ہے ۔
اب سامان کی دو قسمیں ہوتی ہیں

(1) عین ۔۔۔جیسے کاپی، کتاب، گھڑی، کپڑا، دال، چاول وغیرہ یعنی ہر وہ چیز جس کا وجود ہو۔

(2) منفعہ ۔ یعنی جس کا ظاہری وجود تو نہ ہو البتہ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے جیسے۔ ریچارج وغیرہ
کیونکہ اس میں روپیہ دے کسی کے نیٹ ورک سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے

لھذا اس میں ایک طرف سے روپیہ ہوتا ہے مگر دوسری جانب سے روپیہ نہیں بلکہ ریچارج ہوتا ہے جو کہ ایک منفعت ہے یعنی کسی کے نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت ۔
چنانچہ ایسی صورت میں نیٹ ورک کے مالک کو اختیار حاصل ہے وہ چاہے تو پچاس کے بدلے 40 دے یا 60 دے ،کوئی حرج کی بات نہیں ہے
اور اس میں ملنے والا کیش بیک بھی درست ہے

لھذا اس مسئلے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اللہ ہم سب کو سودی کاروبار سے محفوظ رکھے آمین۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
Close
Close