ٹول بار پر جائیں
Uncategorized
Trending

اردو کے تئیں غیر حساس کون!؟

اردو زبان کے بارے میں ہم آپس میں چہ میگوئیاں کرتے رہتے ہیں کہ حکومت اردو کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے، اردو اساتذہ کی تقرری نہیں دے رہی ہے، اردو نصابی کتب مہیا نہیں کراتی ہیں، کسی بھی سرکاری دفاتر میں اردو رسم الخط میں درخواست منظور نہیں کرتے، اس طرح کی باتیں ہم آپس میں کرتے رہتے ہیں ۔
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ محاسبہ کیا کہ ہم نجی طور پر اردو کے تئیں کتنا سنجیدہ ہیں!؟ اسکول، کالج اور یونیورسٹی سطح میں داخلہ کے وقت ہم اپنے بچوں کو اردو کو بطور زبان کتنے لوگ انتخاب کرتے ہیں!!
بات اپنے گھر کی تعلیم سے شروع کرتے ہیں، ابتدائی تعلیم کے لئے ہم اپنے گھروں میں ہندی و انگریزی زبان کے لئے ٹیوشن دیتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اردو سیکھنے کے لئے ٹیوشن لگا دے، ایسا اس لیے ہے کہ ہم اردو کو اہمیت نہیں دیتے، لیکن اہمیت دینے کی مانگ ضرور کرتے ہیں، ہم اپنے بچوں کو اُردو نہیں پڑھائیں گے مگر حکومت کو اُردو اساتذہ رکھنے ہوں گے!!!
حکومت اپنے سطح سے اردو کے تئیں سنجیدہ ہیں اور وقتا فوقتا اُردو طلبہ کی شرح کو جاننے کی کوشش بھی کر رہی ہیں،اور مالی امداد دینے کے لئے اعلان بھی کر رہی ہے، مگر اردو داں سنجیدہ نظر نہیں آتے ۔
ہم اپنے بچوں کو انگریزی و ہندی زبان پڑھاتے ہیں حالانکہ سہ لسانی فارمولے کے تحت بچوں کی تعلیم، شمالی ہند کے طلبہ کے لئے اردو، ہندی و انگریزی، یعنی علاقائی زبان کے ساتھ ساتھ اُردو و انگریزی کو شامل کریں، جنوبی ہند کے طلبہ کے لئے تیلگو، ملیالم، تمل کے ساتھ ساتھ انگریزی و اُردو کو بھی شامل کریں،
کہنے کا مطلب یہ کہ انگریزی و اردو کو لازمی زبان سمجھا جائے اور علاقائی زبان میں سے کسی ایک کو شامل کریں،
حکومت ابتدائی، ثانوی و اعلیٰ ثانوی سطح پر اردو نصابی کتابوں کی فراہمی کے لیے تینوں سطح پر طلبہ کی تعداد طلب کی ہیں، ایسے میں ہم اردو داں طبقہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کا داخلہ اردو زبان کو زبان اول و ثانی کی حیثیت سے اختیار کرنے کو کہے تاکہ اردو کی فروغ سے متعلق جو ہم رونا روتے ہیں اس میں کچھ کمی آسکے ۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
Close
Close